۱۳۸۹ مرداد ۱۸, دوشنبه

چین: زمین کھسکنے سے سو سے زیادہ ہلاک


چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کے شمال مغربی صوبےگنسو میں شدید بارش کے بعد زمین کھسکنے سے کم از کم ایک سو بیس سے زیادہ افراد ہلاک اور تقریباً دو ہزار افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔

صوبے میں کچھ دہہات مٹی اور ملبے میں دب گئے ہیں۔

اس صوبے میں ذرائع مواصلات بھی بری طرح متاثر ہوئے

جس سے امدادی کاروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

زمین کھسکنے کا یہ واقعہ گنسو صوبے میں سنیچر کی رات کو پیش آیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ زمین کھسکنے کے سبب کئی گھر ملبے تلے دب گئے ہیں۔

اس برس جنوبی اور مرکزی چین میں سیلاب کے سبب چودہ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امدادی کام اور لوگوں کو بچانے کے لیے فوج کے جوانوں کو پہاڑی علاقوں میں بھیج دیا گیا ہے۔ چین کے وزیراعظم متاثرہ علاقوں میں امدادی کام کا جائزہ لینے جا رہے ہیں۔

زوقو علاقے کے ایک شہری نے خبررساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ زمین کھسکنے سے متعدد ایک منزلہ گھر پانی میں بہہ گئے ہیں۔ ’اب ہم یہ انتظار کررہے ہیں کہ کتنے لوگ باہر آتے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ اِس سے پہلے بھی زمین کھسکنے کے واقعات پیش آئے ہیں

لیکن اس بار حالات بہت خراب ہیں۔ لوگ اپنے خاندان والوں کو ڈھونڈ رہے ہیں

اور امداد کرنے والوں کا انتظار کر رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ کیچڑ کی وجہ سے امدادی کارروائی میں مشکل کا سامنا ہے۔

بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے

کہ اس برس چین نے بدترین سیلاب دیکھے ہیں۔

هیچ نظری موجود نیست: