۱۳۸۹ مرداد ۱۸, دوشنبه

پاکستان میں سیلاب 2004ء کے سونامی طوفان سے تباہ کن ہے: اقوام متحدہ


اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے ایک کروڑ اڑتیس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں

اور اس کی تباہ کاریاں دسمبر 2004ء کے سونامی طوفان سے بڑھ گئی ہیں

جبکہ متاثرین بر وقت امداد نہ ملنے کی وجہ سے حکومت پر اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔
پاکستانی حکومت اور اقوام متحدہ کے حکام نے اسی سال کے بعد ملک کے شمال مغربی،

وسطی اور جنوبی علاقوں میں آنے والے شدید سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری سے مزید فوری امداد اور ریلیف کی کوششوں میں ہاتھ بٹانے کی اپیل کی ہے

جبکہ صدر آصف علی زرداری اپنے متنازعہ دورہ یورپ کے بعد آج وطن واپس پہنچنے والے ہیں۔
تباہ کن سیلاب سے سب سے زیادہ تباہی پاکستان کے شمال علاقوں اور شمال مغربی وادی سوات،

جنوبی پنجاب اور زیریں سندھ میں ہوئی ہے

اور سیکڑوں مربع میل علاقے زیر آب آنے کی وجہ سے ملک کے باقی حصوں سے کٹ گئے ہیں۔

لاکھوں مکانات، سڑکیں، پل اور عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ کاری انسانی امور کے ترجمان مور زیوگیلیانو نے ایک بیان میں کہا ہے

کہ ''پاکستان میں بدترین سیلاب کی تباہ کاریاں دسمبر2004ء کے سونامی طوفان، پاکستان میں 2005ء کے شدید زلزلے اور ہیٹی میں زلزلے سے زیادہ ہیں''۔
انہوں نے بتایا کہ سیلاب سے ایک کروڑ اسی لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں

جبکہ 2005ء کے زلزلے میں تیس لاکھ سے زیادہ افراد،

سونامی میں پچاس لاکھ سے زیادہ اور ہیٹی میں زلزلے سے تیس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے تھے۔
اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق پاکستان میں سیلاب سے سولہ افراد ہلاک ہوئے ہیں

جبکہ دسمبر 2004ء میں جنوب مشرقی ایشیا میں سونامی طوفان سے دو لاکھ بیس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اقوام متحدہ کے پاکستان میں انسانی امور کے رابطہ کار مارٹن موگوانجا نے بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں شروع کرنے پر زور دیا ہے۔

واضح رہے کہ بہت سے متاثرہ علاقوں میں ابھی تک پاک فوج یا دوسرے علاقوں کی ٹیمیں پانی میں گھرے افراد تک نہیں پہنچ سکی ہیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ

''سیلاب سے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں

اور ابھی بارشیں ہو رہی ہیں، اس لیے مزید نقصانات کا خطرہ ہے۔

میں عالمی برادری سے اپیل کروں گا کہ وہ اس قدرتی آفت میں ہماری مدد کرے''۔
امریکا سمیت متعدد غیر ملکی ڈونرز نے کروڑوں ڈالرز کی امداد دینے کے اعلانات کیے ہیں

لیکن بر سر زمین حکومت سے زیادہ اسلامی خیراتی ادارے متاثرین سیلاب کی امداد کرتے نظر آ رہے ہیں۔

هیچ نظری موجود نیست: