۱۳۸۹ مرداد ۹, شنبه

پاکستان میں اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ اہلکار مینول بیسلر نے سنیچر کو بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ سیلاب سے ہونے والی حقیقی تباہ کاریوں کا اندازہ اس لیے نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں تک رسائی میں بدستور شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

پشاور سے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کا کہنا ہے کہ مینول بیسلز نے مزید بتایا کہ صرف وادی سوات میں پینتالیس رابط پل بہہ گئے ہیں۔ اہلکار کے بقول اس بات کا بھی صحیح اندازہ اس وقت ہی لگایا جا سکے گا کہ کتنے لوگ ہلاک ہوئے ہیں جب پانی اترے گا اور حالات معمول پر آنے شروع ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان سیلاب زدہ علاقوں میں مواصلاتی نظام درھم برھم ہوچکا ہے جب کہ سڑکیں اور شاہراہیں بھی سیلاب میں بہہ گئے ہیں۔

خیبر پختونخوا

خیبر پختون خوا اور مظفر آباد کے بعد اب پنجاب کے مختلف علاقوں کو بارشوں، آبی ریلوں اور دریائی سیلاب کی وجہ سے تباہی کا سامنا ہے
پشاور سے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کا کہنا ہے کہ خیر پختو نخوا کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ بارشوں اور سیلابی ریلوں کی وجہ سے چار سو آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے اور یہ تعداد آٹھ سو تک پہنچ سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ تقریباً سو افراد لاپتہ ہیں جب کے سینکڑوں گھر تباہ ہو گئے ہیں اور متاثرین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

نامہ نگار کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں پینتیس، بنوں میں دو اور مالاکنڈ میں پندرہ سڑکیں سیلابی ریلے میں بہہ گئی ہیں۔

اس کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دو، بنوں میں ایک، ہزارہ ریجن میں چھ، پشاور میں ایک اور ملاکنڈ میں اٹھائیس رابط پل منہدم ہوئے ہیں۔

کلِک ’لوگ نیند میں تھے کہ سیلابی ریلہ آ گیا‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بارشوں کی وجہ سے کلِک کم از کم تریپن افراد ہلاک اور پچپن سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔بارشوں سے املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

مظفرآباد میں ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے قائم کیے گئے ڈیزاسٹر کنڑول روم کے پولیس افسر راجہ محمد اشرف خان نے کہا کہ ضلع مظفرآباد، ہٹیاں بالا اور وادی نیلم میں سب سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

گلگت، شندور متاثر، زمینی رابطہ منقطع
گلگت بلتستان میں سیلابی ریلے کے باعث چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

قومی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق گیارہ سو زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بارشوں کے باعث گلمت پل بھی ٹوٹ گیا جس سے گلگت اور شندرو کے درمیان زمینی رابط منقطع ہوگیا ہے۔ پولیس کے مطابق غذر میں بارشوں کے نتیجے میں تودے گرنے سے بعض اندورنی سڑکیں بھی بند ہوگئی ہیں

اس کے علاوہ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے اور سینکڑوں پھنسے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ امدادی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

کلِک پاکستان میں شدید بارش سے تباہی: تصاویر

سیلابی ریلہ پنجاب کی جانب

سیاحتی مقام کالام میں بھی اٹھائیس سو پھنسے ہوئے سیاحوں کو محفوظ مقام پر پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے: آئی ایس پر آر
صوبہ پنجاب میں سیلاب کی صورتحال آئندہ چوبیس گھنٹوں میں صورتحال مزید خراب ہونے کا شدید خطرہ ہے جبکہ پنجاب میں ہلاکتوں کی تعداد مزید تین ہلاکتیں رپورٹ ہونے کے بعد سینتیس ہو گئی ہے۔زخمی ہونے والوں کی تعداد ایک سو آٹھ بتائی جا رہی ہے۔

کلِک ریلیف اور کرائسز مینیجمنٹ کے ادارے کے تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق اب تک پنجاب کے متاثرہ دس اضلاع میں مجموعی طور پر تین سو تریپن دیہات زیر آب آ گئے جس سے ایک لاکھ بائیس ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے۔

کلِک ’پنجاب میں سیلاب سے خراب ہوتی صورتحال‘

کلِک پنجاب کے کئی علاقوں سے انخلا شروع

بلوچستان
بلوچستان میں ایک ہفتہ قبل شروع ہونے والے بارشوں کے باعث ساٹھ سے زیادہ افراد ہلاک اور درجنوں تاحال لاپتہ ہیں۔ اس کے علاوہ بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد تاحال کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔

کلِک بلوچستان:’ متاثرین کھلے آسمان تلے‘

چاروں طرف پانی ہی پانی ہے۔ ہزاروں افراد پانی میں پھنسے ہوئے ہیں، انھیں مد کی اشد ضرورت ہے
نوشہرہ ، چار سدہ اور مظفر آباد کے رہائشیوں کی بی بی سی اردو سے گفتگوسنئیےدورانیہ: 02:07
امدادی سرگرمیاں
قومی ادارہ برائے آفات کی جانب سے سنیچر کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس وقت خیبر پختونخوا میں تیس ہیلی کاپٹر امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں جب کہ وزارتِ داخلہ کے دو اور پاک فضائیہ کا ایک ہیلی کاپٹر سنیچر سے امدادی کارروائیوں میں شامل ہو گا۔

دو ہیلی کاپٹر کوہستان کے علاقے پتن میں پھنسے چینی کارکنوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ادارے کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس وقت متاثرہ علاقوں میں ایک پچاس کشتیاں متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں۔ جمعہ تک پندرہ ہزار متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کی جا چکا ہے۔

صوبہ پنجاب میں بارہ سو فوجی اہلکار بیس کشتیوں کے ساتھ مختلف علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

صوبہ بلوچستان میں بائیس جولائی کو آنے والے سیلاب کے بعد سے تیرہ سو فوجی امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

اس سے پہلے پاکستان میں تعینات امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے کہا ہے کہ امریکہ سیلاب زدگان کے لیے امدادی کارروائیوں میں معاونت کی غرض سے پاکستان کو سات ہیلی کاپٹر مہیا کر رہا ہے۔

هیچ نظری موجود نیست: