۱۳۸۹ مرداد ۱۷, یکشنبه

عراقی شہر بصرہ میں تین دھماکے، 60 افرادہلاک، 70 زخمی


عراق کے شہر بصرہ میں تین دھماکوں میں ساٹھ افراد ہلاک اور ستر زخمی ہو گئے۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق بصرہ کی ایک مارکیٹ میں ہونے والے تین دھماکوں میں 60 افراد ہلاک ہو گئے

جبکہ 70 افراد زخمی ہوئے جنیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
یہ دھماکے امریکی فوج کی طرف سے تمام اختیارات عراقی فوج کی منتقلی کے تناظر میں ہوئے ہیں۔

امریکا ،عراق سے انخلاء دیئے گئے نظام الاوقات کے مطابق کرنے پر پوری طرح یکسو ہے۔

ملک کا سیاسی بحران اور حالیہ چند دنوں میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ کوبھی ان کے اس ٹائم ٹیبل میں تبدیلی کا پیش خیمہ نہیں بننے دیا جا رہا۔
بصرہ کونسل کی سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ علی المالکی کاکہناہے

کہ دھماکابجلی کا جنریٹرپھٹنے سے ہوا

لیکن ابھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ دہشت گرد حملہ ہے ۔

تاہم واقعے کی تفتیش کی جارہی ہے۔
بصرہ سے رکن پارلیمنٹ حسین طالب نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا

کہ مصروف ترین مارکیٹ میں تین دھماکے ہوئے جس کی ذمہ داری پولیس اور فوج پر عائد ہوتی ہے

جو سیکیورٹی کے انتظامات کرنے میں ناکام ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ مرنے اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر غریب چھابڑی والے ہیں ۔

ان میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔



هیچ نظری موجود نیست: