۱۳۸۹ مرداد ۲۳, شنبه

سیلابی ریلا جیکب آباد شہر کے اطراف میں پہنچ گیا ہے


جیکب آباد دریائے سندھ کے توڑی بند میں پڑنے والے شگاف سے نکلنے والا سیلابی ریلہ جیکب آباد شہر کے اطراف میں پہنچنے کے بعد شہر کو آبادی سے خالی کرا لیا گیا ہے۔

جبکہ سیلاب سے ضلع کے اب تک ایک ہزار سے زائد دیہات زیرِآب آچکے ہیں۔

جیکب آبادسندھ میں کچے کا علاقہ مکمل طور زیر آب آجانے کے بعد سیلابی ریلا جیکب آباد شہر کے اطراف میں پہنچ گیا ہے۔

اور شہر کی 90فیصد آبادی اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئی ہے ۔

پنجاب کی طرف سے آنے والے ایک اور سیلابی ریلے کی وجہ سے گڈو بیراج میں آئندہ چند گھنٹے انتہائی اہم ہیں۔

اس وقت جیکب آباد میں صرف چند ہزار لوگ ہی اپنے املاک کی حفاظت کے لیے موجود ہیں۔

تاہم حکومت یا مقامی انتظامیہ نے ابھی تک کوئی امدادی کارروائی شروع نہیں کی ہے۔

خیرپور کے الرا جاگیربند ،جمشید لوپ بند ،فرید آباد بند،راضی ڈیرو بند،رامیجا بند، پریالو بند اور سگیوں بند پر شدید سیلابکے باعث بندوں میں کٹا کا عمل شروع ہوگیا ہے۔

ضلع نوشہروفیروز میں کچے کا نوے فیصد علاقہ زیر آب آجانے کے بعد پھنسے ہوئے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔

ٹھٹھہ میں کچے کے رہائشیوں کومحفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

دریائے سندھ کے کنارے بھانوٹ بند اور کوٹری بیراج میں قاسم آباد،حسین آباد اورلطیف آباد بچا بند میں بھی پانی کا دبا ؤبڑھ رہا ہے۔

گھوٹکی میں رینی کینال میں 200فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے گیارہ بستیاں زیر آب اور کپاس کی فصلیں تباہ ہوگئیں۔

نئوں گوٹھ میں رابطہ پل بہہ جانے کے بعد علاقے کا مہیڑ سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور سینکڑوں لوگ سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں۔

لاڑکانہ میں گیارہ لاکھ کیوسک پانی پہنچنے کے بعد رینجرز اور محکمہ آبپاشی کے اہلکاربندوں کی نگرانی کررہے ہیں

هیچ نظری موجود نیست: